ہیپاٹائٹس ایک ایسی بیماری ہے جس سے جگر کو نقصان پہنچتا ہے، ہیپاٹائٹس کی کئی اقسام میں سے ہیپاٹائٹس اے، بی اور سی عام طور پر پائی جاتی ہیں، ہیپاٹائٹس اے ایک تیز اور شدت سے اثر انداز ہونے والا انفیکشن ہے اور یہ عام طور پر کسی دوائی کے بغیر ہی ٹھیک ہو جاتا ہے، ہیپاٹائٹس بی اور سی کی وجہ سے جگر میں لمبے عرصے تک انفیکشن رہتا ہے اور اسے شدید نقصان پہنچا سکتا ہے

ہیپاٹائٹس کا پھیلاؤ
ہیپاٹائٹس انتہائی موذی اور جان لیوا مرض ہے، اس سے بچاؤ بے حد ضروری ہے، اس کا پھیلاؤ بھی ایڈز کی طرح ہوتا ہے، ہیپاٹائٹس کا وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں مختلف ذرائع سے منتقل ہوتا ہے تاہم اس کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ انتقال خون، استمعال شدہ سرنج، حجام کے استمعال شدہ اوزار اور جنسی تعلقات ہیں

ہیپاٹائٹس اے
ہیپاٹائٹس اے کا وائرس مریضوں کے فضلات میں پایا جاتا ہے، اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے واش روم استمعال کرنے کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح دھو لینا چاہیے کیونکہ باظاہر صاف ستھرا نظر آنے والا انسان بھی اس وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے

ہیپاٹائٹس بی اور سی
ہیپاٹائٹس بی اور سی کا وائرس خون اور انسانی جسم کی کچھ مخصوص رطوبتوں میں پایا جاتا ہے، یہ مرض عام طور پر مریض کے ساتھ جنسی تعلقات اور انتقال خون سے پھیلتا ہے، اس کے علاوہ یہ مرض نومولود بچے کو پیدائش کے وقت اس کی والدہ سے بھی منتقل ہو سکتا ہے جو ہیپاٹائٹس بی یا سی کی مریضہ ہو، ہیپاٹائٹس بی یا سی کی علامات میں عام طور پر بھوک کا نہ لگنا، تھکاوٹ کا احساس، جلد اور آنکھوں میں پیلا پن، پٹھوں، جوڑوں، جگر اور معدے کا درد شامل ہے، اگر اس مرض کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو اس سے جگر کا کینسر بھی ہو سکتا ہے بلکہ یہ ہلاکت کا سبب بھی بن سکتا ہے

غذائی پرہیز
مٹھائی، انڈا، مرغی، مچھلی، بڑے جانور کا گوشت، پالک، میتھی، بینگن، چاول، نان، مرچ مصالحے والی اور تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں، پھل، سبزیاں، سلاد، دودھ، دہی اور پانی کا استعمال زیاده کریں، پیٹ بھر کے کھانا مت کھائیں بلکہ ہمیشہ بھوک رکھ کر کھایا کریں

ہیپاٹائٹس کے مکمل علاج اور پاکستان میں کہیں بھی ہماری ادویات بذریعہ کوریئر سروس حاصل کرنے کے لئے ہمارے فون نمبر پر رابطہ کیجئے