گھر میں موجود وہ اشیاء جو آپ کے ذاتی استعمال کی ہوتی ہیں اکثر جلد بازی اور وقت کی کمی کے سبب صفائی کے معاملے میں نظر انداز کر دی جاتی ہیں، ان اشیاء کی نشاندہی اور غلطی سے آگاہی اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ وقت کے ساتھ پھیلتی بیماریوں سے نمٹا جا سکے اور صحت کے مسائل کو پیدا ہونے سے پہلے ہی روک دیا جائے

میک اپ برش
گھر سے باہر نکلنے سے پہلے اکثر خواتین کا میک اپ ٹچ لازمی ہوتا ہے اور جلد بازی میں میک اپ برش کی صفائی رہ جاتی ہے، جس کی وجہ سے اسکن بیکٹیریا برش میں افزائش پاتے ہیں اور فوراً جلد پر اس کے اثرات بھی نظر آ جاتے ہیں، میک اپ برش میں پائے جانے والے بیکٹیریا پہلے دو ہفتوں میں ہی تیزی سے افزائش پاتے ہیں، یہ بیکٹریا پورز کے ذریعے جلد میں داخل ہو کر داغ دھبوں اور ایکنی کا سبب بنتے ہیں، ہفتے میں ایک بار میک اپ برش ضرور واش کریں، ایک باؤل میں پانی لیں، اس میں چند قطرے شیمپو ملا کر ایک منٹ کے لئے برش ڈپ کریں پھر سادہ پانی سے دھو کر خشک کر لیں

بیڈ اور تکیہ کور
بیڈ پر سونے سے جسم پر آنے والا پسینہ، آئل، خشکی، منہ سے بہنے والی رال اور اگر آپ بیڈ پر بیٹھ کر کچھ کھانے پینے کے عادی ہیں تو اس کے ذرات وغیرہ آپ کو بیمار کر سکتے ہیں، بیڈ میں بیکٹیریا اور فنگل بھی پایا جاتا ہے، جب دن بھر کی تھکن کے بعد آپ رات کو آرام کی غرض سے بستر پر جاتے ہیں تو مختلف بیکٹریا آپ کو خوش آمدید کہنے کے لئے تیار رہتے ہیں، جس کی وجہ سے آپ کو الرجی، اسکن انفیکشن یا ڈسٹ مائٹس کی شکایت ہو سکتی ہے، اس لئے بیڈ کور اور تکیہ کے کور کو اگر روز یا ہر دوسرے دن نہیں تو کم از کم ہفتے میں ایک دفعہ ضرور تبدیل کریں اور دھو کر دھوپ میں سکھائیں تاکہ اس میں پائے جانے والے بیکٹیریا کا مکمل طور پر خاتمہ ہو سکے

کنگھا اور ہیئر برش
ہر انسان کا کنگھا یا ہیئر برش علیٰحدہ ہونا چاہئے لیکن دیکھا جاتا ہے کہ پورا خاندان ایک کنگھا استعمال کر رہا ہوتا ہے اور دعوتوں وغیرہ میں بھی ضرورت پڑنے پر وہی کنگھا دیگر احباب کے بال سنوارنے کے کام آتا ہے، اس کی صفائی تو دور بس ٹوٹنے پر ہی تبدیل کیا جاتا ہے، کنگھا سر کی جلد پر موجود جراثیم اور بیکٹیریا کی آماجگاہ بن جاتا ہے، اگر کسی کو خشکی سکری، فنگس، جوئیں یا بالوں کے دیگر مسائل ہوں تو وہ دوسروں تک بھی باآسانی منتقل ہو جاتے ہیں، کوشش کریں کہ باقاعدگی سے کنگھے اور ہیئر برش کی صفائی ہو اور اپنا ذاتی کنگھا استعمال کیا جائے

سیل فون
اگر آپ بھی اکثریت کی طرح اپنا فون بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس میں آپ کے بار بار ہاتھ لگنے کے باعث جراثیم پھیل جاتے ہیں، پھر اسی فون کو آپ چھوٹے بچوں کو دے دیتے ہیں اور وہ منہ میں ڈالتے ہیں اور جراثیم با آسانی ان میں منتقل ہو جاتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ سیل فون میں ٹوائیلٹ سیٹ سے دس گنا زیادہ جراثیم پائے جاتے ہیں، جن میں سے کچھ بیکٹیریا نہایت خطرناک ہوتے ہیں اور آپ کو بیمار کر سکتے ہیں، اس لئے اسکرین وائپس اور مائیکرو فائبر کلیننگ کلاتھس کی مدد سے اپنے سیل فون کی صفائی کرتے رہیں

پانی کی بوتل
جسم میں پانی کی مقدار پوری رکھنے کے لئے پانی کی بوتل ساتھ رکھنا ایک بہت ہی اچھا عمل ہے اور اگر یہ بوتل ڈسپوزیبل ہو تو اور بھی اچھی بات ہے، لیکن اگر آپ ایک ہی بوتل کو بار بار استعمال کرتے ہیں تو اس کی صفائی بھی ضروری ہے خاص طور پر جب آپ بوتل کو منہ لگا کر پانی پینے کے عادی ہوں، پانی کی بوتلوں میں بڑی تعداد میں بیکٹیریا اور صحت کو نقصان پہنچانے والے جراثیم پائے جاتے ہیں، نیم گرم پانی اور ڈش واش سے اپنی بوتل کو روزانہ دھوئیں تاکہ آپ کی صحت برقرار رہ سکے

باتھ ٹاول
باتھ ٹاول بیکٹیریا کی ایک پسندیدہ جگہ ہے، جب باتھ ٹاول استعمال کے بعد یونہی رکھ دیا جاتا ہے تو نمی سے بھرپور باتھ ٹاول میں بیکٹریا بہت تیزی سے پھیل جاتے ہیں اور اگلی مرتبہ جب آپ اسے استعمال کرتے ہیں تو جلد کے حساس ہونے کی وجہ سے وہ آپ پر حملہ آور ہو جاتے ہیں، اگر ایک ہی باتھ ٹاول گھر کے دیگر افراد بھی استعمال کر رہے ہوں تو یہ مزید خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے، اگر ہر استعمال کے بعد باتھ ٹاول نہ دھو پائیں تو کم از کم دھوپ میں یا ہوا والی جگہ رکھ کر سکھا لیں

انڈر گارمنٹس
لوگوں کی بڑی تعداد روز انڈر گارمنٹس تبدیل کرتے ہوں گے لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ ضروری عمل روز انجام نہیں دیتے، انڈر گارمنٹس پسینہ، جراثیم اور بیکٹیریا سے لبریز ہوتے ہیں، انڈر گارمنٹس روزانہ تبدیل کرنا اور انہیں گرم پانی سے یا اچھی طرح دھونا ضروری ہے تاکہ بیکٹیریا کا خاتمہ ہو سکے، اگر دھلے بغیر انڈر گارمنٹس استعمال کئے جائیں تو اسکن پرابلم جیسا کہ خارش، بیکٹیریل ایسٹ انفیکشن اور ریشز وغیرہ ہو سکتے ہیں، مرد ہوں یا خواتین انڈر گارمنٹس کی روزانہ تبدیلی اور صفائی بیماریوں کے حملے سے بچنے کے لئے نہایت ضروری ہے

کچن اسپنچ
ایک تحقیق کے مطابق کچن اسپنچ میں ٣٥٠ سے زیاده مختلف قسم کے جراثیم اور بیکٹیریا پائے جاتے ہیں، بہتر یہی ہے کہ برتنوں اور کچن کی صفائی کے بعد اسپنچ کو گرم پانی سے دھوئیں تاکہ بیکٹیریا کی افزائش نہ ہو اور اس میں موجود جراثیم بھی ختم ہو سکیں، اگر آپ صحت کے حوالے سے سنجیدہ ہیں تو اسپنچ کو تبدیل کرنے میں زیادہ وقت نہ لگائیں