حمل کا دورانیہ ہر عورت کے لئے ایک کڑا امتحان ہوتا ہے، حمل کے اس نو ماہ کے دورانیہ میں عورت کو مختلف باتوں کا دھیان رکھنا پڑتا ہے

ماہرین صحت کے مشورے اور ان کی ہدایات پر عمل کر کے اپنا اور ہونے والے بچے کی صحت کا خیال رکھنا اس کی پہلی ترجیح ہوتی ہے، لیکن بعض اوقات آپ کو ایسے مشورے دیئے جاتے ہیں جو آگے جا کر آپ کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، اسی لئے آپ کا حمل سے متعلق ان اہم باتوں کا معلوم ہونا انتہائی ضروری ہے، دوران حمل ماں اور بچے کی صحت کا دارومدار سب سے زیادہ غذا پر ہوتا ہے

پورے نو ماہ آپ کی لی جانے والی خوراک اس بات کی ضمانت ہے کہ آپ اور آپ کا بچہ صحت مند ہیں یا صرف ظاہری طور پر آپ اپنے وزن میں اضافہ دیکھ رہی ہیں، اس دوران ماں کو اضافی خوراک کی ضرورت بلکل ہوتی ہے لیکن اس خوراک کا غذائیت سے بھرپور ہونا، چکنائی سے پاک اور متوازن ہونا بھی ضروری بے

پھل قدرت کی بڑی نعمت ہے لیکن اس کے انتخاب میں بھی احتیاط لازم ہے، کم از کم شروع کے تین ماہ پپیتہ اور انناس کھانے سے گریز کریں، موسمی پھل کھائیں لیکن صحیح مقدار اور وقت کے حساب سے، پھل کھانے کا مطلب یہ ہرگز نہ سمجھیں کہ آپ ایک ہی وقت میں بہت سارے پھل کافی مقدار میں کھا سکتی ہیں کیونکہ آپ کو اسکی ضرورت ہے، اپنی اور بچے کی ضرورت سے زیادہ مقدار میں کھانے کے باعث یہ آپ کے وزن اور خون میں شکر کے اضافہ کا سبب بنیں گے

گہرے رنگ جیسے گاجر، چقندر، جامنی بندگوبھی، لال مولی وغیرہ اور ہرے پتوں والی سبزیاں جیسے پتوں والے شلجم، پالک، میتھی، ساگ، پھلیاں وغیرہ ضرور کھائیں، بے وقت کی بھوک میں سبزیوں کی سلاد یا اسٹیم کی ہوئی سبزیاں آپ کیلئے نہایت فائدہ مند ہیں

ڈیپ فرائی اور مرغن غذائیں آپ کے وزن میں تیزی سے اضافہ اور معدے پر اضافی بوجھ کا باعث بنتی ہیں، دوران حمل ویسے ہی طبیعت میں بھاری پن محسوس ہوتا ہے اس لئے ان غذاؤں کو ترک کرنا اگر آپ کے لئے ممکن نہ ہو تو ان کے استعمال میں اعتدال بہت ضروری ہے، صرف یہ سوچ کر ہی سہی کہ یہ آپ کے ہونے والے بچے کے لئے خطرے کا باعث ہیں، اگر آپ بچے کی پیدائش کے بعد بھی اپنے وزن کو متوازن رکھنا چاہتی ہیں تو ان غذاؤں کا استعمال کم سے کم کریں اور ممکن ہو تو ان سے اس عرصے کے دوران کنارہ کشی اختیار کر لیں

حاملہ خاتون کو چاہئے کہ وہ اپنی غذا کے انتخاب میں موسم کو ضرور مدنظر رکھیں، اگر سردی کا موسم ہو تو ایسی غذاؤں کا انتخاب کریں کہ ٹھنڈ سے بچا جا سکے

یخنی اور سوپ، خشک میوہ جات، دیسی انڈے، نیم گرم دودھ، شہد اور دلیہ توازن کے ساتھ اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ لازمی بنائیں، عموماً بچے پیدائشی ٹھنڈ اور نمونیا کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس کا سبب یہی ہوتا ہے کہ دوران حمل لی جانے والی خوراک بچے پر اثر انداز ہو جاتی ہے

ٹھنڈا پانی تو ہر ایک کے لئے نقصان دہ ہے لیکن پھر بھی اگر آپ اس کی عادی ہیں تو کوشش کریں کہ چاہے سردی ہو یا گرمی دوران حمل بالکل ٹھنڈا پانی نہ پیئیں

کولڈ ڈرنک، دیگر بازاری اور اشتہاری مشروبات کی جگہ فریش جوس، ناریل پانی اور چکنائی سے پاک لسی کا استعمال آپ کی اور بچے کی صحت کی ضمانت ہے

دوران حمل خون کی کمی کی شکایت دور کرنے کیلئے گاجر اور چقندر کا جوس ضرور پیئیں، اس کے ذائقہ کو بڑھانے کے لئے آپ اس میں ایک سیب بھی شامل کریں لیکن ایک بات کا خیال رکھیں کہ یہ جوس شروع کے تین ماہ ہرگز استعمال نہ کریں، یہ نہایت آزمودہ ہے اس سے خون کی کمی فوری طور پر دور ہو جاتی ہے جو بعض اوقات دواؤں سے بھی پوری نہیں ہو پاتی

دوران حمل ادویات کے استعمال میں نہایت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، حمل ٹھہرنے سے پہلے اگر آپ کسی بھی قسم کی ادویات استعمال کرتی ہیں تو اسے جاری رکھنے کے لئے اپنی ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں کہ آیا آپ وہ ادویات جاری رکھ سکتی ہیں یا نہیں

ٹوٹکوں کا استعمال دوران حمل ترک کر دیں کیونکہ بعض چیزیں گرم اور خشک ہوتی ہیں جو نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں