جگر انسانی جسم کا انتہائی اہم اور سب سے بڑا غدود ہے، جگر کا کینسر کم ہی ہوتا ہے لیکن دوسرے اعضاء سے جگر تک کینسر کے خلیات کی ترسیل چونکہ بڑی آسانی سے ہوتی ہے اسی وجہ سے دوسرے اعضاء سے کینسر کے اثرات جگر پر بھی پڑتے ہیں اور یہی اثرات جگر کے ذریعے دوسرے اعضاء تک بھی پہنچتے ہی، عام طور پر جگر کا کینسر چالیس سال کی عمر کے بعد ہوتا ہے اور مشاہدے کے مطابق جگر کا کینسر عورتوں اور بچوں کی نسبت مردوں میں زیادہ پایا جاتا ہے

علامات
مریض کی بھوک ختم ہو جاتی ہے اور وزن روز بروز کم ہوتا چلا جاتا ہے، اکثر دستوں کی شکایت اور مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے، خون کی بہت زیادہ کمی ہو جاتی ہے اورجسم کمزور اور یرقان کی سی کیفیت نظرآتی ہے، مریض کی نبض تیز لیکن بہت کمزور ہو جاتی ہے، مریض کو ہر وقت متلی اور اکثر قے ہونے لگتی ہے، آخری اسٹیج پرمریض کو خون کی قے آنے لگتی ہے، جگر کا سائز بہت بڑھ جاتا ہے اور بہت زیادہ درد ہوتا ہے، پیٹ میں پانی بھر جاتا ہے، خون میں کیلشیم کی مقدار اور کولیسٹرول بڑھ جاتا ہے اور گلوکوز کی مقدارکم ہو جاتی ہے، ایسے مریضوں کی طبیعت اچانک بہت زیادہ خراب ہونے لگتی ہے

وجوہات
ہیپاٹائیٹس بی کے وائرس سے متاثرہ حاملہ عورت اپنے بچوں میں یہ وائرس منتقل کرنے کا سبب بنتی ہے جو بڑے ہونے کے بعد جگر کے کینسرمیں مبتلا ہو جاتے ہیں، جسم کے کسی بھی عضو میں ہونے والا کینسر جگر کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے، جگر کی سوزش سے بھی یہ مرض ہو سکتا ہے، نشہ آور اشیاء کے استعمال سے بھی اس مرض کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، یرقان اگر بہت زیادہ بڑھ جائے تو یہ جگر کے کینسر کی وجہ بن سکتا ہے، غیر متوازن ناقص غذا اور گندگی بھی اس مرض کا سبب بن سکتی ہے

امراضِ معده و جگر اور ہیپاٹائٹس کے مکمل علاج اور پاکستان میں کہیں بھی ہماری ادویات بذریعہ کوریئر سروس حاصل کرنے کے لئے ہمارے فون نمبر پر رابطہ کیجئے